13 مارچ 2011 - 20:30

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ایک ہزار فوجیوں کی بحرین آمد کو بحرین پر باقاعدہ چڑھائی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اہل البیت نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے سیاسی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر بحرین کسی بیرونی جارحیت کا نشانہ بنتا اور عرب ریاستوں کی فوجیں اس ملک میں آتیں تو بحرینی عوام ان کا خیر مقدم کرتے لیکن اس وقت بحرین کی طرف بڑھنے والا ہر فوجی جارح ہے اور سعودی عرب سمیت خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کی فوجوں کا بحرین میں داخلہ بحرین کی سالمیت اور قومی خودمختاری پر وار ہے۔ اور ایک قانوندان نے کہا ہے کہ کسی بھی بیرونی فوجی کا بحرین میں داخلہ اس ملک پر بیرونی قبضہ تصور کیا جائے گا۔ بحرین میں جمعیت وفاق ملی نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں عوام کا چین و سکون سلب ہوچکا ہے اور حکومت کے کرائے کے غنڈے ہرجگہ موجود ہیں اور ان کے پاس ہر طرح کے ہتھیار ہیں جن سے وه عام لوگوں پرحملے کر رہے ہیں۔مقامی عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی فوجی بحرین کی عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے منامہ کی سڑکوں پر تعینات ہوگئے ہیں۔ جمعیت وفاق ملی نے اپنے بیان میں حکومت کے غنڈوں کو دہشت گرد قراردیا ۔ ادھر بحرین کے ایک مستعفی پولیس افسر نے کہا ہے کہ سرکاری ٹی وی حقائق کو مسخ کرکے پیش کررہا ہے۔ بحرینی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جارح فوجوں کا سامنا زیاده شوق سے کریں گے اور خون کی دیواریں کهڑی کرکے جارحوں کی تلواریں تھوڑ دیں گے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110